6 مئی 2012 - 19:30

امریکی وزیر خارجہ ہلیری کلنٹن چین اور بنگلہ دیش کا دورہ مکمل کرنے کے بعد ہندوستانی حکام کے ساتھ مختلف سلامتی اور دفاعی امور پر بات چیت کے مقصد سے ہندوستان پہنچی ہیں۔

ابنا: ہلیری کلنٹن کولکتہ میں ہندوستان کی ثقافتی تعلقات کونسل کے اراکین سے ملاقات کے بعد سات مئی کو نئی دہلی جائيں گی۔ جہاں ہندوستانی وزیر اعظم من موہن سنگھ سے ان کی ملاقات اور مذاکرات متوقع ہیں۔

امریکی وزیر خارجہ ایسی حالت میں ہندوستان پہنچی ہیں کہ جب امریکہ افغانستان کے ساتھ ایک اسٹریٹیجک معاہدے پر دستخط کرچکا ہے۔ اور خطے پر اس معاہدے کے منفی اثرات مرتب ہوسکتے ہیں۔ اس لۓ ہلیری کلنٹن کے دورۂ ہندوستان کے بارے میں کہا جارہا ہے کہ ہندوستانی حکام کے ساتھ ان کی ملاقاتوں اور مذاکرات کا مقصد دہشتگردی سے مقابلے کے بہانے باہمی تعاون کی تقویت اور دو طرفہ اسٹریٹیجک شرکت کے ساتھ نام نہاد قیام امن کی ضمانت کی فراہمی ہے۔

البتہ ہندوستان کے لۓ چین کے حوالے سے طاقت کے توازن کی برقراری کے لۓ امریکہ کے ساتھ تعاون شائد توجہ طلب ہے کیونکہ ہندوستان چین اور پاکستان جیسے اپنے دیرینہ حریف ممالک کے مقابلے میں اپنی فوجی برتری کو پہلی ترجیح جانتا ہے۔ بعض مبصرین کا کہنا ہے کہ موجودہ حالات کے پیش نظر ہندوستان کو امریکہ کی خارجہ پالیسی میں اہمیت حاصل ہوچکی ہے۔

ہندوستان میں عام تاثر یہ پایا جاتا ہے کہ اگرچہ امریکہ کے ساتھ اتحاد کی صورت میں نئی دہلی اور واشنگٹن کے تعلقات ایک نیا رخ اختیار کریں گے اور اس سے ہندوستانی عوام کو زیادہ آسائش میسر آۓ گی لیکن اس کے باوجود ہندوستان کے لۓ بہت سی مشکلات بھی پیدا ہوں گی۔ جن میں سے ایک یہ ہے کہ امریکہ ہندوستان کے علاقائی کردار کو اپنے مفاد کے لۓ استعمال کرے گا۔

شائد یہ کہنا غلط نہ ہو کہ ہلیری کلنٹن کے دورہ ہند کے بعد نۓ معاہدوں پر دستخط کۓ جائيں گے لیکن حقیقت یہ ہے کہ ہندوستان نے حالیہ چند برسوں کے دوران امریکہ کے ساتھ تقریبا دس معاہدوں پر دستخط کر کے عملی طور پر یہ اعلان کردیا ہے کہ وہ امریکہ کے ساتھ اپنے تعلقات میں توسیع کے لۓ خود ہی قدم آگے بڑھاۓ گا۔ اور یہ چيز امریکی حکومت کے لۓ بہت خوش آئند ہے۔

حقیقت یہ ہے کہ امریکہ جنوبی ایشیا اور برصغیر پاک و ہند میں بعض ممالک کے درمیان اختلافات کے حل اور اپنے ناجائز مفادات حاصل کرنے پر قادر نہیں ہے اور اسے علاقائی امور میں موثر کردار ادا کرنے کے لۓ ہندوستان جیسے ملکوں کے تعاون کی ضرورت ہے اور ہندوستان دو عشروں سے زیادہ عرصے سے امریکہ کا پسندیدہ آپشن ہے۔....... /169